#پاکستانی_آفیسر کل رات میرے ایک دیرینہ دوست نے فون کیا کہ اسکے شہر کھاریاں سے ایک شخص نیب میں ڈپٹی ڈاٸریکٹر ہے اور تبادلہ ہوکر کراچی آیا ہے ۔ اس نے پرانے تعلق سے کھانے پر بلایا ہے آپ بھی چلیں ۔ میں بادلِ نخواستہ ہاں کر بیٹھا لیکن ایک شرط پر کہ میرا تعارف برگیڈیر نہیں بلکہ ڈاکٹر بشیر آراٸیں کروانا ۔ کینٹ اسٹیشن کے پاس اس آفیسر کے فلیٹ پر پہنچے ۔ دعا سلام کے بعد خاموشی چھا گٸی ۔ وہ آفیسر موباٸل پر مصروف ہو گیا اور ہم دونوں چپ چاپ بیٹھ گٸے ۔ دس بیس منٹ یونہی گزرے تو میں نے میزبان کو مخاطب کرکے کہا کہ جناب آپ خاصے خاموش طبع لگتے ہیں ۔ ہمیں گھر بلاکر بھی گپ شپ نہیں لگا رہے ۔ کہنے لگا بس عادت ہوگٸی ہے ۔ جب سے نیب میں آیا ہوں لوگوں سے کم ہی بات کرتا ہوں ۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے ۔ کہنے لگا کوٸی آفیسر لوگوں سے کیا بات کرسکتا ہے ۔ اب تو میں اپنے گاٶں جاکر بھی کسی سے زیادہ بات نہیں کر پاتا کیونکہ گاٶں والے لوگ اور رشتہ دار فری ہوجاتے ہیں اور پھر آپ کو آفیسر ہی نہیں سمجھتے ۔ میں نے اپنے دوست کی طرف حیرت سے دیکھا کہ وہ مجھے کس فلاسفر کے پاس لے آیا ہے ۔ دوست کہنے لگا سر ہمارے علاقے می...
Education Blogger